اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات Attaullah Tarar نے کہا ہے کہ پاکستان کی فعال اور متوازن خارجہ پالیسی کے نتیجے میں عالمی سطح پر ملک کا وقار بحال ہوا ہے اور غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کو غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کو عالمی تنہائی کا سامنا تھا، تاہم موجودہ حکومت کی سفارتی حکمت عملی کے باعث اب پاکستان ہر اہم عالمی معاملے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی فورم پر پاکستان کا مؤقف
وزیر اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں منعقدہ غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس میں پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ یہ اجلاس امریکی صدر Donald Trump کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم Shehbaz Sharif نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا جائز حق دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا:
• آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے
• غزہ میں سیزفائر کی خلاف ورزیاں فوری بند کی جائیں
• دیرپا امن کے لیے عالمی برادری کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا
وزیراعظم نے زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام کی ضمانت ہو سکتا ہے۔
فلسطینی کاز کی بھرپور وکالت
عطا تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے ہر عالمی فورم پر فلسطینی عوام کی آواز بلند کی ہے اور ان کے حقوق کے لیے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی قیادت نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اخلاقی بنیادوں پر بھی فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب قیادت دیانت دار اور پرعزم ہو تو اس کے مثبت نتائج عالمی سطح پر نمایاں ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میں بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔
عالمی سیاست میں فعال کردار
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے پاکستان کو ایک بار پھر عالمی معاملات میں فعال کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے پر واضح اور مستقل مؤقف اپنانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سمت کا عکاس ہے۔
حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان آئندہ بھی عالمی امن، خطے کے استحکام اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، جبکہ فلسطینی عوام کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس میں پاکستان کی شرکت اور مؤثر خطاب کو سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جسے حکومت اپنی خارجہ پالیسی کی مضبوطی کا مظہر قرار دے رہی ہے۔