واشنگٹن: امریکا کی اعلیٰ ترین عدالت Supreme Court of the United States نے صدر Donald Trump کے عالمی تجارتی ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اہم آئینی نظیر قائم کر دی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، اور یہ اقدامات قانون کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔
عدالت کا مؤقف کیا تھا؟
عدالت نے قرار دیا کہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) صدرِ امریکا کو یکطرفہ طور پر عالمی تجارتی ٹیرف نافذ کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ:
• ٹیرف عائد کرنے کے لیے کانگریس کی واضح منظوری درکار ہوتی ہے
• ہنگامی اختیارات کو تجارتی پالیسی کے مستقل ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا
• آئینی اختیارات کی حد متعین کرنا ضروری ہے تاکہ اختیارات کا توازن برقرار رہے
یہ فیصلہ صدارتی اختیارات اور کانگریس کے کردار کے حوالے سے ایک اہم آئینی وضاحت سمجھا جا رہا ہے۔
معاشی پالیسی کو دھچکا
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ ٹرمپ کی معاشی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ ٹیرف ان کے اقتصادی ایجنڈے کا مرکزی ستون سمجھے جاتے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے دور میں پاکستان سمیت متعدد ممالک پر درآمدی محصولات عائد کیے تھے، جن کا مقصد تجارتی خسارہ کم کرنا اور امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا بتایا گیا تھا۔
گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر عدالت نے امریکا کے خلاف فیصلہ دیا تو ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی تجارت پر ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد:
• رواں سال کیے گئے بعض تجارتی معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں
• مستقبل میں صدارتی سطح پر یکطرفہ ٹیرف عائد کرنا مشکل ہوگا
• کانگریس کے کردار کو مزید تقویت ملے گی
عالمی منڈیوں میں اس فیصلے کو امریکی تجارتی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آئینی نظیر کی اہمیت
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے ایک نئی حد مقرر کر دی ہے کہ صدر امریکا کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں پر عمل درآمد کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ نہ صرف تجارتی پالیسی بلکہ آئندہ صدارتی اختیارات کے استعمال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، اور امریکی آئینی نظام میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کو مزید واضح کرتا ہے۔