واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیلی حکمت عملی یا ٹائم لائن فراہم نہیں کی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق صحافیوں کی جانب سے سوال پر کہ آیا وہ ایران پر محدود حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، ٹرمپ نے جواب دیا:
“میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کر رہا ہوں۔”
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
اس سے قبل امریکی اخبار The Wall Street Journal نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق:
• ممکنہ حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے
• کارروائی کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ کرنا ہو سکتا ہے
• اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو محدود کارروائی وسیع تر تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے
سفارتکاری یا طاقت؟
صدر ٹرمپ اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو امریکا فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
گزشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ کیا گیا تو نتائج “انتہائی سنگین” ہو سکتے ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بیان بازی میں شدت مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ:
• محدود حملہ بھی خطے میں بڑے تصادم کا سبب بن سکتا ہے
• خلیجی ممالک اور عالمی توانائی منڈی متاثر ہو سکتی ہے
• سفارتی کوششیں تیز کیے بغیر صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے
امریکی صدر کے حالیہ بیان نے عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر امریکا۔ایران تعلقات کی جانب مبذول کرا دی ہے، جہاں سفارتکاری اور طاقت کے درمیان توازن ایک نازک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔