واشنگٹن: امریکا کے ری پبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے ایک انٹرویو میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے انہیں دوسری عالمی جنگ سے تشبیہ دے دی، جس پر سیاسی و سفارتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد غزہ میں بچوں، خواتین اور غیر عسکریت پسند خاندانوں کی ہلاکتیں مسیحی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
دوسری عالمی جنگ سے موازنہ
سینیٹر گراہم نے جواب دیتے ہوئے کہا:
“ہم نے دوسری عالمی جنگ میں کیا کیا تھا؟ کیا ہم نے جرمنوں کو بھوکا مارتے ہوئے سوچا تھا؟ ہم نے ہر شہر پر بمباری کی تھی۔ یہ جنگ ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ 7 اکتوبر کے واقعے کا موازنہ دوسری عالمی جنگ سے کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا:
“بالکل۔ یہ یہودی ریاست کے وجود کا خطرہ تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کو 1200 افراد کو قتل اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور اگر حملہ آوروں کے بس میں ہوتا تو وہ ہر یہودی کو قتل کر دیتے۔
برلن اور ٹوکیو کی مثال
غزہ کی تباہی سے متعلق سوال پر گراہم نے کہا:
“ہم نے برلن کو بھی ملبے کا ڈھیر بنایا تھا، ہم نے ٹوکیو کو بھی تباہ کیا تھا۔ کیا ہم ایٹم بم گرا کر غلط تھے؟”
ان کا کہنا تھا کہ فوجی کامیابی کے بغیر انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں اور اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے تو وہی اقدام کرتے جو اسرائیل نے کیا۔
ری پبلکن مؤقف کا دعویٰ
جب ان سے پوچھا گیا کہ کتنے امریکی ان کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں تو گراہم نے دعویٰ کیا کہ:
“زیادہ تر ری پبلکن ویسا ہی سوچتے ہیں جیسا میں سوچتا ہوں۔ جب معاملہ ریڈیکل اسلام کا ہو تو وہ ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ ہوں گے۔”
انہوں نے میزبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ری پبلکنز کو نہیں جانتیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو کچھ پتا ہی نہیں۔
ردعمل اور تنقید
گراہم کے بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بعض سیاسی مبصرین نے سخت تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ اور موجودہ تنازع کا موازنہ تاریخی و اخلاقی طور پر متنازع ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
گراہم کے حالیہ بیان نے امریکا میں جاری سیاسی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی داخلی سیاست کے اثرات ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔