واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے غیر ملکی مصنوعات پر عائد اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متبادل قانونی راستے اختیار کریں گے اور دیگر ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔
جمعہ کو Supreme Court of the United States نے 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے صدر کی جانب سے دیگر ممالک پر لگائے گئے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت کا مؤقف کیا تھا؟
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ:
• جس قانون کے تحت ٹیرف عائد کیے گئے وہ قومی ایمرجنسی کی مخصوص صورتحال کے لیے بنایا گیا تھا۔
• یہ قانون صدر کو وسیع پیمانے پر اضافی تجارتی محصولات لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ صدارتی اختیارات آئینی حدود کے تابع ہیں اور انہیں قانون کی تشریح سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:
“یہ فیصلہ بہت مایوس کن ہے، مجھے عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“دیگر ممالک اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، لیکن ان کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔ میں جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔”
صدر کا کہنا تھا کہ عدالت غیر ملکی مفادات کے زیرِ اثر آ گئی ہے اور وہ ٹیرف سے متعلق دیگر قانونی اختیارات استعمال کریں گے۔
متبادل قانونی راستے اور سیکشن 301
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ:
• سیکشن 301 کے تحت قومی سلامتی سے متعلق تمام ٹیرف برقرار رہیں گے۔
• انہیں ٹیرف لگانے کے لیے کانگریس سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
• وہ کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار رکھتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ دیگر ٹیرفس کے علاوہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔
ری فنڈ کا معاملہ
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا امریکا کو ٹیرف سے حاصل شدہ رقم واپس کرنا ہوگی، صدر نے کہا کہ اس معاملے پر قانونی جنگ لڑی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر عدالت کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کیا گیا تو امریکا کو اربوں ڈالر واپس کرنے پڑ سکتے ہیں، تاہم حکومت قانون میں ترمیم یا نئے اختیارات کے ذریعے اس اثر کو محدود کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
دیگر عالمی معاملات
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کوئی تبدیلی نہیں آئی، تمام معاہدے برقرار ہیں، صرف طریقہ کار مختلف ہوگا۔
انہوں نے ایران کے حوالے سے بھی کہا کہ بہتر ہوگا کہ وہ مناسب ڈیل کے لیے مذاکرات کرے۔
آئینی اور معاشی مضمرات
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کو مزید واضح کرتا ہے، جبکہ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق:
• عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔
• تجارتی پالیسی میں مزید قانونی چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔
• حکومت قانون میں ترمیم کی کوشش کر سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر ٹیرف غیر قانونی قرار دیے گئے تو اس کے سنگین اثرات ہوں گے۔ اب نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ وائٹ ہاؤس آئندہ قانونی اور تجارتی حکمت عملی کیا اختیار کرتا ہے۔