واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اضافی تجارتی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ٹیرف کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی ہے۔ صدر نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ وہ بطور امریکی صدر دنیا بھر کے ممالک پر عائد 10 فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا رہے ہیں اور ان کی انتظامیہ آئندہ مہینوں میں مزید “قانونی اور قابلِ اجازت” ٹیرف متعارف کرائے گی۔
پس منظر: سپریم کورٹ کا فیصلہ
جمعہ کو امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ صدر نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف عائد کیے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کے تحت عمومی تجارتی محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت کے مطابق:
• قومی ایمرجنسی سے متعلق قانون کو وسیع پیمانے پر تجارتی پالیسی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
• تجارتی ٹیرف عائد کرنے کا بنیادی اختیار کانگریس کے پاس ہے۔
عدالتی فیصلے کو صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا ردعمل
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا:
“جو چاہوں کرسکتا ہوں، ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔”
انہوں نے کہا کہ کئی ممالک دہائیوں سے امریکا کا “استحصال” کرتے آئے ہیں اور ان کی انتظامیہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کرے گی۔ صدر کے مطابق عدالت کے فیصلے کے باوجود امریکا اپنی تجارتی پالیسی پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔
پہلے 10 فیصد، اب 15 فیصد عالمی ٹیرف
عدالتی فیصلے کے فوری بعد صدر نے تمام ممالک پر 10 فیصد عالمی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم تازہ اقدام میں اسے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق:
• نئی شرح فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
• انتظامیہ آنے والے مہینوں میں ٹیرف کے نئے ڈھانچے پر کام کرے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے اور امریکا کے تجارتی شراکت دار جوابی اقدامات پر غور کر سکتے ہیں۔
ممکنہ قانونی اور سیاسی اثرات
ماہرین کے مطابق:
• کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اختیارات کی کشمکش شدت اختیار کر سکتی ہے۔
• عدالتی فیصلے کے بعد ٹیرف کے نفاذ کے لیے متبادل قانونی بنیاد تلاش کی جا سکتی ہے۔
• درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی آئینی اختیارات، تجارتی پالیسی اور عالمی اقتصادی نظام کے لیے ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا کانگریس اس معاملے پر قانون سازی کرتی ہے یا یہ تنازع مزید عدالتی مراحل میں داخل ہوتا ہے۔