واشنگٹن/لندن: گیلپ انٹرنیشنل کے تازہ عالمی سروے کے مطابق امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو ناپسندیدہ ترین عالمی شخصیت قرار دیا ہے۔ سروے میں بتایا گیا کہ 2019 کے مقابلے میں نیتن یاہو کو ناپسند کرنے والوں کی مجموعی شرح میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ناپسندیدگی
رپورٹ کے مطابق:
• 58 ممالک میں مجموعی طور پر 61 فیصد افراد نے نیتن یاہو کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
• ناپسندیدگی کی شرح 2019 کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
• سروے میں شریک افراد نے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں میں ان کے کردار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
کن ممالک میں سب سے زیادہ مخالفت؟
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق:
• ایران میں 98 فیصد شہریوں نے نیتن یاہو کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ قرار دیا۔
• برطانیہ میں 52 فیصد افراد نے کھل کر مخالفت کی۔
• امریکا میں 42 فیصد افراد نے ناپسندیدگی ظاہر کی۔
• پاکستان میں 49 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا۔
یورپی ممالک میں بھی مجموعی طور پر ناپسندیدگی کی شرح نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
کہاں ملی حمایت؟
اس کے برعکس کچھ ممالک میں نیتن یاہو کو نسبتاً زیادہ حمایت حاصل رہی:
• آذربائیجان میں 58 فیصد حمایت
• کینیا میں 58 فیصد حمایت
• بھارت میں 50 فیصد افراد نے حمایت کا اظہار کیا
ماہرین کے مطابق یہ رجحانات متعلقہ ممالک کی خارجہ پالیسی، سفارتی تعلقات اور علاقائی سیاسی ترجیحات سے جڑے ہو سکتے ہیں۔
عالمی سیاسی اثرات
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اسرائیل۔فلسطین تنازع نے عالمی رائے عامہ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر مغربی دنیا میں عوامی سطح پر پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق:
• عالمی سطح پر اسرائیلی قیادت کے لیے سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
• یورپ اور امریکا میں پالیسی مباحث مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
• مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال عالمی سیاست کا مرکزی موضوع بنی رہے گی۔
گیلپ انٹرنیشنل کی رپورٹ نے ایک بار پھر عالمی قیادت کے بارے میں عوامی رائے اور خارجہ پالیسی کے اثرات کو نمایاں کر دیا ہے۔