واشنگٹن/تہران: ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مسلح تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی لڑاکا طیاروں سے بھرا دوسرا بحرہ بیڑا USS Gerald R. Ford بحیرہ روم میں داخل ہو گیا، جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔
امریکی فوج کی تیاری
• امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اردن کے فضائی اڈے پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے کھڑے ہیں۔
• برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ امریکا ایران پر حملے میں ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور حکومت کے تختے کو الٹنے کی تیاری کر رہا ہے۔
• امریکی صدر نے ایران کو معاہدے کے لیے 10 سے 15 روز کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد خطے میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔
ایران کی تیاری اور ردعمل
ایران بھی سفارت کاری اور عسکری جوابی کارروائی دونوں کے لیے تیار ہے۔
ایران کے صدر Masoud Pezeshkian نے کہا:
“عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے صف بندی کر رہی ہیں، ایران عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔”
ایران کی فوجی اور فضائی تیاری کے ساتھ ساتھ، ملک کے اندر اور بیرونی سرحدوں پر حفاظتی اقدامات بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
عالمی تناظر
• امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا بحیرہ روم میں داخل ہونا خطے میں اسٹریٹجک تشویش پیدا کر رہا ہے۔
• وسطی مشرق میں امریکی اور ایرانی افواج کی قربت کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔
• ماہرین کے مطابق، کسی بھی غلط فہمی یا چھوٹی لڑائی کے بڑے تصادم میں بدلنے کا خطرہ موجود ہے۔
موجودہ خطرات
1. ایران اور امریکا کے درمیان سکیورٹی خدشات میں اضافہ
2. بحیرہ روم اور مشرق وسطی میں نیوی اور فضائی تصادم کے امکانات
3. عالمی معیشت پر تیل کی سپلائی اور توانائی کے بحران کا اثر
4. خطے میں اتحادی ممالک کی سکیورٹی اور سفارتی کشمکش
تجزیہ کاروں کا مؤقف
• امریکی کارروائی ایران کے ایٹمی پروگرام اور عسکری اقدامات کو محدود کرنے کے مقصد سے ہو سکتی ہے۔
• ایران کی طرف سے جواب میں فضائی دفاع اور زمینی فوجی تیاری، خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتی ہے۔
• عالمی طاقتیں کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم دونوں ملکوں کے بیانات اور فوجی تیاری نے خوف پیدا کر دیا ہے۔
نتیجہ
امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی نہ صرف مشرق وسطی کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی اور معیشت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند دنوں میں خطے میں سفارتی اور عسکری کشمکش کے نئے مرحلے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔