ریاض / جدہ: سعودی عرب نے اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے متنازع بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
سعودی عرب کا دوٹوک مؤقف
سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی ریاست کو مقبوضہ اراضی پر یکطرفہ دعویٰ کرنے یا توسیع پسندانہ عزائم کے اظہار کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ریاض نے اس معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ سے باضابطہ وضاحت طلب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بیان کی نوعیت اور اس کے پس منظر کو واضح کیا جائے۔
او آئی سی کی مذمت
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی امریکی سفیر کے بیان کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ بیان بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔
او آئی سی نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اس نوعیت کے بیانات اشتعال انگیز ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس کے عالمی امن پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
متنازع بیان کیا تھا؟
واضح رہے کہ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے اور پورے خطے پر قبضہ اسرائیل کا حق ہے۔ ان کے اس بیان نے مسلم دنیا میں شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔
عالمی برادری سے مطالبہ
سعودی عرب اور او آئی سی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے بیانات کا فوری نوٹس لے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
بیانات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مسئلہ فلسطین کا حل بین الاقوامی قراردادوں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
سفارتی تناظر
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کا براہِ راست امریکی محکمہ خارجہ سے وضاحت طلب کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاض اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا چاہتا ہے۔
مسلم ممالک کے حالیہ ردعمل سے واضح ہے کہ فلسطین کا معاملہ اب بھی اسلامی دنیا کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی متنازع یا یکطرفہ بیان کو قبول نہیں کیا جائے گا۔