ڈھاکا: وزیر اعظم طارق رحمان کے عہدہ سنبھالنے کے چند روز بعد ہی بنگلہ دیش کی فوج میں اعلیٰ سطح پر اہم تقرریاں اور تبادلے کر دیے گئے ہیں۔ آرمی ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق متعدد سینئر افسران کو ترقی دے کر نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جسے سیاسی تبدیلی کے بعد عسکری ڈھانچے میں بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل محمد حفیظ الرحمان کو ترقی
اعلامیے کے مطابق بھارت میں تعینات دفاعی مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد حفیظ الرحمان کو ترقی دے کر میجر جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیا ہے۔ انہیں 55 انفنٹری ڈویژن کا جنرل آفیسر کمانڈنگ مقرر کرتے ہوئے فوری طور پر وطن واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تعیناتی اہم آپریشنل ذمہ داریوں کے تناظر میں کی گئی ہے۔
چیف آف جنرل اسٹاف کی تقرری
لیفٹیننٹ جنرل محمد معین الرحمان کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا گیا ہے، جو فوجی منصوبہ بندی، آپریشنز اور اسٹریٹجک امور میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ عہدہ فوجی قیادت میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
ڈی جی فورسز انٹیلی جنس اور دیگر تبدیلیاں
میجر جنرل قیصر رشید چوہدری کو ڈائریکٹر جنرل آف فورسز انٹیلی جنس تعینات کیا گیا ہے، جو ملک کی عسکری انٹیلی جنس ایجنسی کی سربراہی کریں گے۔
اسی طرح میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو وزارت خارجہ میں سفارتی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جس سے سول اور عسکری اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کا اشارہ ملتا ہے۔
مزید برآں، لیفٹیننٹ جنرل میر مشفیق الرحمان کو آرمڈ فورسز ڈویژن میں پرنسپل اسٹاف آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سابق پی ایس او لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن کی خدمات وزارت خارجہ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
سیاسی پس منظر
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حالیہ عام انتخابات کے بعد ملک میں نئی سیاسی قیادت برسراقتدار آئی ہے۔ 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 209 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی بنگلادیش نے 77 نشستیں جیتیں۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے امیر کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا ہے۔
تجزیہ
دفاعی ماہرین کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد فوجی قیادت میں تبدیلیاں عموماً پالیسی ہم آہنگی اور اسٹریٹجک ترجیحات کے تعین کے لیے کی جاتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں حالیہ تقرریاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں، جہاں سول حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان روابط کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تمام تقرریاں پیشہ ورانہ بنیادوں پر کی گئی ہیں اور ان کا مقصد ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔