کابل: طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں ہونے والی مبینہ بمباری کی تصدیق کردی ہے، جب کہ افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف شہروں میں رات گئے فضائی حملے کیے گئے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر Kabul میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی اور اطراف کی سڑکوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ Paktia میں طالبان کے منصوری کور پر دو مرتبہ بمباری کی گئی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم فوری طور پر جانی و مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب صوبہ Kandahar میں بھی غیر معمولی فضائی سرگرمی کی اطلاعات ملی ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق رات 12 بجے کے بعد ایک پاکستانی طیارہ قندھار کی فضاؤں میں پرواز کرتا دیکھا گیا، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
طالبان حکومت کے ترجمان نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ “افغان سرزمین کی خودمختاری کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔”
تاحال کسی ملک یا گروہ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی نشاندہی کر سکتی ہے، اور اگر ان حملوں کی تصدیق سرکاری سطح پر ہو جاتی ہے تو اس کے علاقائی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حملوں کے بعد بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر متاثر ہوئی، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے حساس تنصیبات کے گرد گشت میں اضافہ کر دیا ہے