اسلام آباد/پشاور: پاک افغان سرحد پر کشیدگی کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے مبینہ دراندازی اور فائرنگ کے واقعات کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد اہم چیک پوسٹوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں مختلف سرحدی سیکٹرز میں کی گئیں جہاں حالیہ دنوں میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
آرٹلری اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے کارروائی
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے مؤثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے آرٹلری اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران کئی اہم دفاعی پوزیشنز، اسلحہ کے ذخائر اور ٹینک تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق فیصلہ کن جوابی حملوں کے بعد بعض مقامات پر افغان طالبان کی جانب سے سفید جھنڈے بھی لہرائے گئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
مختلف سیکٹرز میں جھڑپیں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی جس کے بعد پاکستانی فورسز نے ناوگئی سیکٹر Bajaur، تیراہ وادی ضلع خیبر، اور چترال سیکٹر میں بھرپور جواب دیا۔
چترال سیکٹر میں ایک افغان چیک پوسٹ کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
ہلاکتوں اور نقصان کا دعویٰ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان طالبان کے 130 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دشمن کے کئی ٹینک اور عسکری سازوسامان کو بھی نقصان پہنچا۔
تاحال افغان حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سرحدی صورتحال بدستور کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
آپریشن “غضبُ للحق” جاری
یاد رہے کہ پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی مبینہ بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف آپریشن “غضبُ للحق” شروع کر رکھا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے اور دراندازی روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ جھڑپیں خطے میں سکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔