واشنگٹن / اسلام آباد: امریکا نے افغان طالبان کی جانب سے مبینہ حملوں کے تناظر میں پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی سینئر عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکا صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف
امریکی محکمہ خارجہ میں سیاسی امور کی سیکرٹری ایلیسن ہوکر نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ امریکا افغان طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی پاکستان کی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں حالیہ سرحدی کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایلیسن ہوکر کے مطابق:
• امریکا صورتِ حال کو قریب سے مانیٹر کر رہا ہے
• پاکستان کو طالبان کی جانب سے حملوں کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے
• خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی روابط جاری رہیں گے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک افغان کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ معاملات کو سنبھال رہا ہے اور امریکا اس میں مداخلت نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ:
“پاکستان کے پاس عظیم وزیر اعظم اور جنرل ہیں، یہ ایسی قیادت ہے جس کی میں واقعی عزت کرتا ہوں۔”
ان کے بیان کو خطے میں جاری تناؤ کے دوران پاکستان کے لیے ایک مثبت سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
پس منظر: سرحدی کشیدگی
افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار افغان سرزمین کو مبینہ طور پر دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق:
• امریکا کا بیان پاکستان کے مؤقف کو سفارتی تقویت دے سکتا ہے
• خطے میں طاقت کا توازن اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی دوبارہ زیر بحث آ سکتی ہے
• واشنگٹن کی محتاط پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ وہ براہِ راست مداخلت سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حمایت تک محدود رہنا چاہتا ہے
علاقائی و عالمی اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو:
• پاک افغان سرحدی تجارت متاثر ہو سکتی ہے
• مہاجرین اور سرحدی آبادیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے
• علاقائی سکیورٹی ڈھانچے میں تبدیلی آ سکتی ہے
اہم نکات
• امریکا نے طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کی
• ایلیسن ہوکر اور آمنہ بلوچ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
• صدر ٹرمپ کا پاکستان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار
• امریکا صورتِ حال کی نگرانی کر رہا ہے، براہِ راست مداخلت کا عندیہ نہیں