تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں حکومتی ہیڈکوارٹرز اور صدارتی محل کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق متعدد میزائل تہران کی یونیورسٹی روڈ اور جمہوریہ ایریا میں گرے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین نے بعض علاقوں میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دیگر شہروں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات
دارالحکومت کے علاوہ Isfahan، Kermanshah اور Qom میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے ان رپورٹس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے تہران پر پیشگی حملے شروع کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اسرائیل کے دفاع کے لیے کی گئی ہے اور اس کا مقصد ممکنہ خطرات کو قبل از وقت ناکام بنانا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس آپریشن میں ایران کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
سپریم لیڈر کی موجودگی پر قیاس آرائیاں
خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei حملے کے وقت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں پہلے ہی ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم سرکاری ذرائع نے سیکیورٹی اقدامات سخت کرنے کی تصدیق کی ہے۔
ہنگامی اقدامات اور عالمی تشویش
حملوں کے فوراً بعد امدادی اور سیکیورٹی ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں ٹریفک محدود کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری عمارتوں کے اطراف سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ براہِ راست تہران کو نشانہ بنانا خطے میں بڑے تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور آئندہ چند گھنٹے خطے کی سلامتی کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔