تہران: اسرائیلی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملوں میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی فورسز اس بات کی تصدیق کرنے میں مصروف ہیں کہ کارروائی میں کون سے ایرانی رہنما متاثر ہوئے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کا مقصد ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور اس کے دفاعی اداروں کو غیر مؤثر بنانا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی اداروں کے دفاتر اور حساس تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
تہران میں دھماکے اور ہنگامی صورتحال
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دارالحکومت تہران میں حکومتی ہیڈکوارٹرز اور صدارتی محل کو نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق شہر میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق متعدد میزائل تہران کی یونیورسٹی روڈ اور جمہوریہ ایریا میں گرے، جس کے نتیجے میں شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعض علاقوں میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے جبکہ ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
دیگر شہروں میں بھی حملوں کی اطلاعات
دارالحکومت کے علاوہ Isfahan، Kermanshah اور Qom میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ ان حملوں کی نوعیت اور نقصان کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں، تاہم سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حکمت عملی؟
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں موجود امریکی عہدیداروں نے اشارہ دیا ہے کہ کارروائی کا مقصد ایران کے سیکیورٹی انفراسٹرکچر اور دفاعی صلاحیت کو نشانہ بنانا تھا۔ اس تناظر میں یہ کارروائیاں خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ایران کا ردعمل اور عالمی تشویش
ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی جانی نقصان یا اعلیٰ عہدیدار کے نشانہ بننے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ تاہم سرکاری میڈیا نے ان حملوں کو ایران کی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے ممکنہ ردعمل اور سفارتی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔
صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور آئندہ چند گھنٹے خطے کی سیکیورٹی کے لیے نہایت اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔