تہران: ایران نے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سخت اور بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے بعد صورتحال کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی سخت وارننگ
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ Ebrahim Azizi نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو پہلے ہی خبردار کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“ہم نے تمہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا، اب تم ایک ایسے راستے پر قدم رکھ چکے ہو جس کا انجام تمہارے اختیار میں نہیں رہا۔”
ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری پر حملہ ہرگز برداشت نہیں کرے گا اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں۔
رائٹرز کو ایرانی عہدیدار کی تصدیق
بین الاقوامی خبر رساں ادارے Reuters سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی کہ تہران حملوں کا “انتہائی سخت اور تباہ کن” جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
عہدیدار کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا ردعمل ایسا ہو گا جو دونوں ممالک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اور دفاعی ادارے مکمل الرٹ ہیں۔
سپریم لیڈر کی منتقلی کی اطلاعات
عالمی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei حملوں کے وقت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں پہلے ہی ایک انتہائی محفوظ اور خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سیکیورٹی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کر دیے گئے ہیں۔
اسرائیلی دعوے اور آپریشن کی منصوبہ بندی
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن میں ایران کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق اس بڑے حملے کی تاریخ اور حکمت عملی کئی ہفتے قبل طے کی گئی تھی اور اہداف کی نشاندہی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔
دیگر شہروں میں دھماکے اور مواصلاتی خلل
قطری نشریاتی ادارے Al Jazeera کے مطابق تہران کے علاوہ Isfahan، Kermanshah اور Qom میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
حملوں کے بعد تہران کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس معطل ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ شہریوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور کئی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
عالمی سطح پر تشویش
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے اعلان کے مطابق بھرپور جوابی کارروائی کی تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ خلیج فارس میں توانائی کی ترسیل، عالمی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فی الحال تمام نظریں ایران کے ممکنہ ردعمل اور عالمی برادری کی سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، جبکہ خطے میں جنگ کے خطرات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔