تل ابیب: اسرائیل نے ایران پر براہِ راست حملوں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تازہ پیش رفت کے بعد عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ممکنہ سیکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کی تصدیق
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل ملنے والی دھمکیوں اور سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کارروائی شروع کی گئی۔ ان کے مطابق یہ اقدام اسرائیل کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھا۔
اسرائیلی حکام نے واضح کیا ہے کہ آپریشن کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا اور مستقبل کے خطرات کو روکنا ہے۔
اسرائیل میں سائرن اور ہنگامی اقدامات
ایران پر حملے کے فوراً بعد اسرائیل کے مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ حکام نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور بنکرز میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔
رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ حساس تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر اضافی سیکیورٹی تعینات کی گئی ہے۔
عراق کا فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ
ایران پر حملے کے بعد عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور ممکنہ فضائی خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ فضائی حدود کی بندش سے بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
تہران میں دھماکے اور میزائل حملے
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے دارالحکومت Tehran میں کم از کم تین مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی بمباری کے بعد شہر کے بعض حصوں میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ شاہراہ یونیورسٹی پر متعدد میزائل گرنے کی تصدیق کی گئی ہے، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاہم جانی یا مالی نقصان کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خطے میں وسیع تصادم کا خدشہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملوں کے تبادلے نے پورے خطے کو ممکنہ جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو یہ تنازع مزید ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اب دونوں ممالک کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔