مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملے کے بعد خطے بھر میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف عالمی خبر رساں اداروں، بشمول الجزیرہ، نے خطے میں میزائل حملوں اور دھماکوں کی تصدیق یا ابتدائی رپورٹس نشر کی ہیں۔
بحرین: امریکی پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر نشانہ
بحرین کے دارالحکومت مناما میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر پر میزائل حملے کی اطلاع دی گئی ہے۔ بحرینی حکام کے مطابق امریکی بحریہ کے United States Fifth Fleet کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور مرکزی شاہراہوں کے استعمال سے گریز کریں۔ سیکیورٹی ادارے صورتِ حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کویت، یو اے ای، قطر اور سعودی عرب میں دھماکوں کی اطلاعات
رپورٹس کے مطابق کویت میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سائرن بھی بجائے گئے۔ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی سے بھی زوردار دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔ اماراتی حکام نے بعض علاقوں میں فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی دھماکے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مزید دو دھماکے سنے گئے۔ قطری وزارتِ دفاع کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ملکی حدود میں داخل ہونے سے قبل تباہ کر دیا گیا اور سیکیورٹی صورتِ حال مکمل کنٹرول میں ہے۔ قطر میں برطانوی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اردن کا فضائی دفاع متحرک
اردن کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ دو بیلسٹک میزائل ملک کی فضائی حدود میں مار گرائے گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ میزائل کس جانب سے داغے گئے تھے۔ اردنی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی فضائی دفاع مکمل طور پر فعال ہے اور شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
اسرائیل پر بھی جوابی حملے
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل پر بھی 30 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ شمالی شہر حیفہ میں بھی فضائی دفاعی نظام متحرک دیکھا گیا۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال مکمل جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سیکیورٹی الرٹ بلند ترین سطح پر ہے۔
ایران کا سخت مؤقف
ایران پر مبینہ مشترکہ امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “جو کچھ آنے والا ہے اس کے لیے تیار رہو۔ خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے ہمارے ہدف پر ہیں، ہماری طرف سے جواب عوامی ہوگا اور کوئی سرخ لکیر نہیں۔”
ایران کی وزارتِ داخلہ نے اپنے شہریوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن نے مذاکرات کے دوران حملہ کیا، جس کے وسیع اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
خطے کی مجموعی صورتِ حال
• متعدد خلیجی ممالک میں فضائی دفاعی نظام فعال
• بعض ممالک نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیں
• سفارت خانوں کی جانب سے شہریوں کو ایڈوائزری جاری
• عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل متوقع
موجودہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے سرکاری بیانات اور تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ بحران پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع تنازع کی طرف لے جا سکتا ہے۔