مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ ایک بار پھر شدید ہو گیا ہے۔ ایران نے امریکا اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں بشمول رائٹرز کے مطابق اسرائیل بھر میں سائرن بجنے لگے اور شہریوں کو فوری بنکرز میں پناہ لینے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے اب تک 30 سے زائد بیلسٹک میزائل اسرائیل کے مختلف شہروں میں داغے جا چکے ہیں۔ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پورا شہر گونج اٹھا، جبکہ شمالی شہر حیفہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور ایران نے وسیع پیمانے پر میزائلوں اور ڈرونز کے استعمال سے یہ کارروائی کی ہے۔
اسرائیل میں حفاظتی اقدامات اور عوامی ہدایات
اسرائیلی فوج نے شہریوں کو فوری پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی اور ایرانی میزائلوں کی ویڈیوز بنانے یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک دیا۔ ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے اور فضائی دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ متحرک کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا سخت مؤقف
ابراہیم عزیزی، ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ، نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں پر ایران سخت ردعمل دے رہا ہے اور صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا:
“ہم نے تمہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا! اب تم نے ایک ایسے راستے پر قدم رکھ دیا ہے جس کا انجام تمہارے اختیار میں نہیں رہا۔”
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران ان حملوں کا جواب دینے کے لیے مکمل تیاری کر رہا ہے اور یہ جواب انتہائی سخت اور تباہ کن (Crushing) ہو گا۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور جوابی کارروائی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عالمی تشویش اور سپریم لیڈر کی حفاظت
اطلاعات کے مطابق جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے، بلکہ انہیں پہلے ہی کسی انتہائی خفیہ اور محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں، اور خطے میں اس کشیدگی کے وسیع اور دیرپا اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال کا خلاصہ
• ایران نے اسرائیل پر 30 سے زائد بیلسٹک میزائل داغ دیے
• تل ابیب اور حیفہ میں شدید دھماکوں کی اطلاعات
• اسرائیلی شہریوں کو بنکرز میں پناہ لینے کی ہدایت
• ایرانی پاسداران انقلاب اور ڈرون حملے بھی جاری
• ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جواب انتہائی سخت اور تباہ کن ہو گا
• سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای محفوظ مقام پر منتقل