تہران/دنیا – ایرانی سرکاری ذرائعِ ابلاغ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے شہید ہونے کی باضابطہ تصدیق کردی ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں مارے گئے۔ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر تھے اور 1989 سے اس عہدے پر فائز تھے، جب انہوں نے آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد قیادت سنبھالی۔
ایران کی سرکاری نشریہ نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران اس حملے میں شہید ہوئے، اور ان کی شہادت کے موقع پر ملک بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
حملے کی تفصیلات اور پس منظر
امریکی و اسرائیلی حملے
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی اور میزائیل حملوں کے نتیجے میں تہران اور دیگر اہم مقامات پر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، جس کے دوران ایران کے اعلیٰ حکام اور فوجی کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کے بعد متعدد بین الاقوامی ذرائع نے خامنہ ای کی موت کی خبر نشر کی۔
اہم شہادتیں
ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں نہ صرف آیت اللہ خامنہ ای بلکہ ان کے بیٹے، بہو اور نواسے بھی شہید ہوئے ہیں۔
ایرانی حکومت کا رد عمل
ایرانی صدر نے اس واقعہ کو ایک بڑا جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت اسلامی دنیا کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگی، اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ ایران نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ امریکی و اسرائیلی اڈوں اور اہداف پر مزید حملے کیے جائیں گے، جب تک دشمن حکام کے خلاف کارروائی ضروری سمجھی جائے گی۔
علاقائی اور عالمی صورتحال
اس واقعہ کے بعد ایران نے مضبوط ردِ عمل کا عندیہ دیا ہے، جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے انتقام کی بات کی ہے اور مختلف خطوں میں حملوں کو بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔
یہ تنازعہ وسیع پیمانے پر خلیج، مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاسی ماحول پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس کے باعث متعدد ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور سلامتی خطرات پر غور شروع کیا ہے۔
خامنہ ای کا سیاسی اثر اور ورثہ
آیت اللہ علی خامنہ ای ایران کے بنیادی ترین طاقتور حکمرانوں میں شمار ہوتے تھے، جنہوں نے 37 سال سے زیادہ عرصہ تک ملک کی سیاسی، فوجی اور خارجہ پالیسیوں کی رہنمائی کی۔ ان کی موت کے بعد ایران کے سیاسی ڈھانچے میں وسیع عدم استحکام اور قیادت کے خلاء کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
قوم کا غم و سوگ اور مستقبل کے امکانات
• ایران میں 40 روزہ سوگ اور عزاداری کے اجتماعات شروع ہوچکے ہیں، جن میں ہزاروں افراد شرکت کر رہے ہیں۔
• عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ واقعہ مشرقی وسطیٰ کی سلامتی اور طاقت کے توازن کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔