تہران، ایران – ایرانی سرکاری ذرائع و میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 1989 سے ملک کے سپریم لیڈر تھے، امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں شہید ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں ان کے خاندان کے قریبی افراد اور متعدد اعلیٰ حکومتی و عسکری رہنما بھی ہلاک ہوئے، ایران میں 40 روزہ سوگ اور سات روزہ تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔
کیا ہوا؟
• امریکی اور اسرائیلی فورسز نے ایران کے مختلف علاقوں پر ایک بڑے حملے کا آغاز کیا جس کے تحت تہران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
• ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اپنے دفتر میں “اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے” حملے میں شہید ہوئے۔
• ان کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی ہلاک ہوئے، اور کئی اعلیٰ حکومتی و عسکری عہدیدار بھی حملے میں مارے گئے۔
ایرانی مؤقف اور بیانیہ
ایرانی سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ “عالمی تکبر” کے خلاف ایک سنگین جارحیت تھی، اور آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ ایرانی قوم کو اسلامی اسباق اور مزاحمت کی راہوں پر مضبوط رہنے کا پیغام دیا۔ اس سلسلے میں ان کا آخری پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا، جس میں انہوں نے ایرانی قوم کی جدوجہد اور استقلال کو اجاگر کیا۔
ساتھ ہی ایران کی جانب سے امام حسین رضی اللہ عنہ کے قول کو بھی پیش کیا گیا: “مجھے یزید جیسے کی بیعت نہیں کرنی” – جسے ایک علامتی پیغام کے طور پر شیئر کیا گیا۔
شہادت کا اثر اور ردعمل
• ایران بھر میں عوام نے سڑکوں پر احتجاج اور سوگ منایا، اور ملک میں بڑے پیمانے پر تعزیتی اجتماعات ہوئے ہیں۔
• حکومت نے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ 7 روز کی عام تعطیل بھی نافذ کی گئی ہے۔
• ایرانی رہنماؤں، بشمول صدر مسعود پزیشکیان اور اعلیٰ عسکری حکام نے اس حملے کو “ایک بڑا جرم” قرار دیا ہے اور سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
عالمی و علاقائی صورتِ حال
• اقوامِ متحدہ سمیت عالمی رہنماؤں نے جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
• ایران نے جوابی کارروائی میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
• دنیا بھر کی کئی حکومتوں نے صورتحال پر اپنی رائے اور اقدامات کا اظہار کیا ہے، جس سے عالمی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔