تہران: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسعود پزشکیان نے اپنے پہلے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ ایران “انتقام کو اپنا جائز حق اور فرض سمجھتا ہے” اور اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت “مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے”، جس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم مشکل گھڑی میں متحد ہے اور بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
“ایران خاموش نہیں رہے گا”
ایوانِ صدر سے جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا:
“ہم اپنے شہداء کے خون کا حساب لیں گے۔ انتقام ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی، اور اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر سطح پر اقدامات کیے جائیں گے۔”
انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی وقار کے دفاع میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی کا تعزیتی پیغام
دوسری جانب عباس عراقچی نے سپریم لیڈر کی شہادت پر تفصیلی تعزیتی پیغام جاری کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای:
“ثابت قدم، تدبیر میں عمیق اور راہِ حق میں استقامت کے پیکر تھے۔”
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مرحوم رہنما نے “عزت، حکمت اور استقامت کا دائمی ورثہ” چھوڑا ہے، اور ایسی عظیم شخصیت کی شہادت بلاشبہ ایک بڑا قومی نقصان اور دل خراش سانحہ ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ:
“جو پرچم آیت اللہ خامنہ ای نے بلند کیا، اسے مزید بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔”
قومی سطح پر سوگ اور ہنگامی مشاورت
ایرانی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت کے ہنگامی اجلاس جاری ہیں۔ سرکاری سطح پر پہلے ہی قومی سوگ اور تعطیلات کا اعلان کیا جا چکا ہے، اور مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر اور وزیر خارجہ کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایران سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر متحرک حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے۔ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں ممکنہ ردعمل اور اس کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
علاقائی و عالمی اثرات
ماہرین کے مطابق اگر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور آئندہ چند روز خطے کی سیاست کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔