تہران – ایران کی مسلح افواج نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے شہادت کے بعد جارح قوتوں کو “سخت اور فیصلہ کن” جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ دشمن کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔
ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور ریاستی قیادت پر حملہ ایک انتہائی سنگین اقدام ہے، اور اس کا بدلہ لینے کے لیے ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حملہ آور جارح کو “اہم اور ناقابلِ معافی سزا” دی جائے گی۔
اسی طرح، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز فورس (IRGC) نے بھی وعدہ کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے قاتلوں کو “سخت، فیصلہ کن اور عبرت ناک سزا” دی جائے گی اور یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جائے گا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید: ایران نے تصدیق کر دی
ایرانی سرکاری نشریاتی ذرائع اور حکومتی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔ ان کے دفتر میں ہونے والے اس حملے کو ایران کی قیادت اور عوام ایک “سخت جارحیت” قرار دے رہی ہے۔
ایرانی ریاست نے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، جبکہ سات روزہ عام تعطیل بھی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ عوام عزاداری کے اجتماعات اور یادگار تقاریب میں شرکت کر سکیں۔
عالمی اور علاقائی تناظر
العرب میں جاری خبروں کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے کیے گئے حملوں کے بعد مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر دھماکے سنے گئے اور دہشت گرد حملوں کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔ ایران نے ان حملوں کو “عالمی طاقتوں کی جارحیت” قرار دیا ہے اور متعدد علاقائی فوجی تنصیبات اور اڈوں پر جوابی حملوں کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عراق میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان متواتر فضائی جھڑپیں بھی رپورٹ ہو رہی ہیں۔
ایرانی صدر کا ردعمل
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ نیازی پھانسی کے بدلے کے لیے “انتقام لینا ہمارا جائز حق اور فرض ہے”۔ انہوں نے دشمن قوتوں کے خلاف سخت ردعمل دینے پر زور دیا ہے۔
عوامی ردعمل، احتجاجات اور سوگ
ایران میں خامنہ ای کے شہادت کی خبر کے بعد مختلف شہروں میں عوامی مظاہرے، سوگوار اجتماعات اور احتجاجی ریلیاں شروع ہو گئی ہیں۔ عوام نے سڑکوں پر نکل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور شہداء کے حق میں نعرے لگائے گئے۔
مجموعی صورتحال
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازعہ کی نئی سطح پر منتج ہوا ہے، جہاں عالمی طاقتیں اور علاقائی فریق ایک دوسرے کے خلاف عسکری و سیاسی اقدامات انجام دے رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں دنیا بھر میں سلامتی کے خطرات، اقتصادی عدم استحکام اور سفارتی بحران کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔