واشنگٹن: امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ ادارے United States Central Command (سینٹ کام) نے ایران میں کیے گئے حملوں کی ویڈیو جاری کر دی ہے، جس میں امریکی افواج کو مبینہ طور پر ایرانی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سینٹ کام کی جانب سے جاری کی گئی 33 سیکنڈز کی ویڈیو میں رات کے وقت فضائی کارروائی، میزائل لانچ اور اہداف پر حملوں کے مناظر شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی مخصوص فوجی تنصیبات کے خلاف کی گئی۔
ویڈیو میں کیا دکھایا گیا؟
جاری کردہ ویڈیو میں جنگی طیاروں اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کے مناظر دکھائے گئے ہیں، جبکہ حملوں کے بعد اہداف پر دھماکوں کی جھلکیاں بھی شامل ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی “اسٹریٹجک اہداف” کے خلاف کی گئی، تاہم حملوں کے مکمل نتائج اور نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس قسم کی ویڈیوز عموماً فوجی کارروائی کے مؤقف کو عالمی سطح پر واضح کرنے اور طاقت کے اظہار کے لیے جاری کی جاتی ہیں۔
مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملوں کا پس منظر
اطلاعات کے مطابق امریکا اور Israel کی جانب سے گزشتہ روز ایران کے مختلف شہروں میں مشترکہ فضائی و میزائل حملے کیے گئے تھے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے مشیر اعلیٰ علی شامخانی شہید ہوئے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد بین الاقوامی ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
شہری اہداف نشانہ بننے کا الزام
ایرانی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ حملوں کے دوران ایک لڑکیوں کے اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں طالبات سمیت 160 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
ایران نے اس واقعے کو “جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال تیزی سے ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر کئی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔