کویت میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ بحفاظت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب

کویت میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، تاہم طیارے کے پائلٹ نے بروقت ایجیکٹ کر کے اپنی جان بچا لی۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ امریکی ساختہ F-15 Eagle تھا، جو امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال ایک جدید جنگی طیارہ سمجھا جاتا ہے۔

تصدیق تاحال نہیں

روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں امریکی ایف-15 طیارہ گر کر تباہ ہوا، تاہم اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہ تو امریکا کی جانب سے کی گئی ہے اور نہ ہی کویتی حکام نے اس بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایک لڑاکا طیارے کو آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا زمین کی طرف گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں دھماکے کے بعد دھوئیں کے بادل بھی نمایاں ہیں، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

پائلٹ زخمی، اسپتال منتقل

روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے کا پائلٹ حادثے سے قبل ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہا اور بعد ازاں اسے زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پائلٹ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

علاقائی کشیدگی میں اضافہ

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے ردِعمل دیتے ہوئے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کویت میں موجود امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ممکنہ وجوہات پر قیاس آرائیاں

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا اسے کسی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر کسی بھی امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم حتمی نتیجہ سرکاری تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

امریکی ایف-15 طیارہ کیا ہے؟

F-15 Eagle ایک دو انجنوں پر مشتمل سپرسانک لڑاکا طیارہ ہے جو فضائی برتری حاصل کرنے اور دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسے امریکی فضائیہ کے علاوہ کئی اتحادی ممالک بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ طیارہ اپنی رفتار، مار کرنے کی صلاحیت اور جدید ریڈار سسٹم کی وجہ سے دنیا کے مؤثر ترین جنگی طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

Related posts

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال: پاکستان اور افغانستان کی فضائی حدود عالمی پروازوں کا مصروف ترین راستہ بن گئیں۔

نئی دہلی: بھارتی چینل اے بی پی نیوز مبینہ طور پر ہیک، نشریات میں غیر معمولی مواد نشر

لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 31 افراد جاں بحق، 149 زخمی — خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی