لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، 31 افراد جاں بحق، 149 زخمی — خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

لبنان پر گزشتہ روز سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے جبکہ کم از کم 149 افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق حملوں کا دائرہ کار جنوبی لبنان سے بڑھ کر دارالحکومت Beirut کے نواحی علاقوں تک پھیل گیا ہے، جہاں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

بیروت اور جنوبی لبنان میں شدید بمباری

لبنانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے مضافات اور جنوبی علاقوں میں کئی مبینہ عسکری ٹھکانوں پر بمباری کی۔ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں جبکہ رہائشی علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

لبنانی وزیرِ انصاف کا حکم

لبنان کی حکومت نے داخلی سطح پر بھی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ انصاف نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کسی بھی غیر ریاستی کارروائی کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

حزب اللہ کا اعلانِ جنگ

گزشتہ روز Hezbollah نے اسرائیل کے خلاف حملوں کا اعلان کرتے ہوئے شمالی اسرائیل کے شہر Haifa پر میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei پر مبینہ امریکی و اسرائیلی حملے کے ردِعمل میں کی گئی۔

حزب اللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل لبنانی مقبوضہ علاقوں سے نکل جائے اور خطے میں حملے بند کرے۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل اسرائیلی کارروائیوں اور اپنے قائدین و کارکنان کی ہلاکت کے بعد اسے “اپنے دفاع اور مناسب وقت و مقام پر جواب دینے” کا حق حاصل ہے۔

اسرائیلی فوج کا ردِعمل

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے بیشتر پروجیکٹائلز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا۔ اسرائیلی بیان کے مطابق اس کے بعد لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بیروت کے مخصوص علاقے شامل ہیں۔

انسانی بحران کا خدشہ

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو لبنان میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ملک میں طبی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم تاحال کسی باضابطہ سیزفائر کا اعلان نہیں ہوا۔

مزید پیش رفت اور سرکاری بیانات سامنے آنے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

Related posts

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال: پاکستان اور افغانستان کی فضائی حدود عالمی پروازوں کا مصروف ترین راستہ بن گئیں۔

نئی دہلی: بھارتی چینل اے بی پی نیوز مبینہ طور پر ہیک، نشریات میں غیر معمولی مواد نشر

کویت میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ بحفاظت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب