واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کی ایران سے متعلق امریکی رپورٹ کی تردید، سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ

واشنگٹن: امریکا میں تعینات سعودی سفارتخانے نے ایک امریکی اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے ایران پر حملوں کے لیے سابق امریکی صدر Donald Trump پر دباؤ ڈالا تھا۔ سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ مملکت نے کسی بھی مرحلے پر امریکی انتظامیہ پر ایران سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔

ایکس پر جاری بیان

واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب ہمیشہ ایران کے ساتھ قابلِ اعتماد اور پائیدار معاہدے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔

سفارتخانے کے ترجمان کے مطابق، “مملکت نے کبھی بھی امریکی انتظامیہ پر ایران کے خلاف عسکری اقدام یا پالیسی میں تبدیلی کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کے حق میں رہا ہے۔”

امریکی اخبار کا دعویٰ

امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران آئندہ دہائی میں براہِ راست امریکی سرزمین کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس تناظر میں حملے کے فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں اتحادی ممالک کی تشویش اور دباؤ بھی امریکی پالیسی سازی پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، تاہم سعودی سفارتخانے نے ان قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف

ایران پر حملے کے بعد اپنے بیان میں Donald Trump نے کہا تھا کہ امریکی زمینی افواج ایران میں داخل نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد مخصوص اہداف کو فضائی اور میزائل حملوں کے ذریعے نشانہ بنانا تھا، نہ کہ وسیع پیمانے پر زمینی جنگ چھیڑنا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا، تاہم کسی طویل المدتی زمینی مداخلت کا ارادہ نہیں ہے۔

ماہرین کی رائے

امریکی اخبار کے مطابق دفاعی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے کسی ملک کے اندرونی سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی لانا تاریخی طور پر مشکل رہا ہے۔ ماہرین نے عراق، افغانستان اور دیگر تنازعات کی مثال دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ فضائی حملے عسکری اہداف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، مگر سیاسی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی منڈیوں، توانائی کی رسد اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، اس لیے فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی راہیں کھلی رکھنا ناگزیر ہے۔

خطے کی صورتحال

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے سفارتی حل کی حمایت کے اعادے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکی پالیسی، ایران کا ردعمل اور علاقائی طاقتوں کا کردار خطے کے سیکیورٹی منظرنامے کا تعین کرے گا۔

Related posts

سعودی عرب: راس تنورا آئل ریفائنری کے قریب ڈرون حملہ، پی این ایس سی چارٹر جہاز پر لوڈنگ معطل

ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد نہ کیا، اہداف واضح قرار

چین کی ایران کو بھرپور حمایت کی یقین دہانی، امریکی و اسرائیلی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار