ٹرمپ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد نہ کیا، اہداف واضح قرار

واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے تناظر میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر رد کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ دیگر صدور کی طرح پیشگی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ امریکا ایران میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فی الحال ایسا لگتا ہے کہ زمینی فوج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، تاہم حالات کے مطابق یہ امکان بھی خارج از امکان نہیں کہ زمینی مداخلت ضروری ہو جائے۔ ان کے بقول، “میں کوئی ایسا بیان نہیں دینا چاہتا جو ہمارے آپشنز کو محدود کر دے۔”

وائٹ ہاؤس خطاب میں اہداف کی وضاحت

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے Donald Trump نے کہا کہ امریکا کے اہداف واضح اور محدود ہیں۔ ان کے مطابق امریکی کارروائی کا مقصد:
• ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا
• ایرانی بحریہ کی طاقت کو کمزور کرنا
• ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا
• ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر مسلح گروہوں کو ہتھیار، فنڈز اور رہنمائی فراہم کرنے سے باز رکھنا

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا میزائل پروگرام دراصل جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اور اگر اسے نہ روکا جاتا تو یہ مشرقِ وسطیٰ اور امریکا دونوں کے لیے ناقابل برداشت خطرہ بن سکتا تھا۔

مذاکرات کی ناکامی اور فوجی کارروائی

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، مگر معاہدے بار بار ناکام ہوئے۔ ان کے مطابق فوجی کارروائی کا فیصلہ اسی پس منظر میں کیا گیا۔

انہوں نے کہا، “ہم نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ حملہ کرنے کا ہمارا آخری اور بہترین موقع تھا۔ مقصد ایک بدعنوان حکومت سے پیدا ہونے والے ناقابلِ برداشت خطرات کو ختم کرنا ہے۔”

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے 10 بحری جہاز پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں اور اس کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی آپریشن طے شدہ شیڈول سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی منصوبہ 4 سے 5 ہفتوں کا تھا، تاہم امریکا کے پاس کارروائی کو طویل کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

ایران جوہری معاہدے پر مؤقف

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے سابق امریکی صدر Barack Obama کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے 2018 میں اس معاہدے سے دستبردار ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ “انتہائی خطرناک دستاویز” تھی۔

ٹرمپ کے مطابق اگر وہ معاہدہ برقرار رہتا تو ایران تین سال پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل کو ختم کیا۔

خطے کی صورتحال اور خدشات

سیاسی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو کھلا رکھنے سے خطے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر تنازع وسیع پیمانے پر پھیلتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا سفارتی راستہ دوبارہ کھل سکتا ہے یا خطہ ایک طویل اور وسیع جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

Related posts

سعودی عرب: راس تنورا آئل ریفائنری کے قریب ڈرون حملہ، پی این ایس سی چارٹر جہاز پر لوڈنگ معطل

چین کی ایران کو بھرپور حمایت کی یقین دہانی، امریکی و اسرائیلی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار

واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کی ایران سے متعلق امریکی رپورٹ کی تردید، سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ