ریاض: سعودی عرب کے مشرقی ساحلی شہر Ras Tanura میں واقع آئل ریفائنری اور بندرگاہی تنصیبات کے قریب ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور تیل کی لوڈنگ کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا۔
پی این ایس سی چارٹر جہاز پر ہنگامی صورتحال
شپنگ ذرائع کے مطابق حملے کے وقت Pakistan National Shipping Corporation (پی این ایس سی) کا چارٹر کردہ جہاز راس تنورا پورٹ پر پاکستان کے لیے خام تیل لوڈ کر رہا تھا۔ ڈرون حملے کی اطلاع ملتے ہی جہاز پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور حفاظتی اقدامات کے تحت لوڈنگ فوری طور پر معطل کر دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عملے کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور بندرگاہی سرگرمیوں کو محدود کر دیا گیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
سعودی وزارت دفاع کا بیان
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان نے عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ Saudi Aramco کی راس تنورا تنصیبات کے قریب دو ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔ ترجمان کے مطابق حملے کے نتیجے میں کوئی شہری زخمی نہیں ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ گرائے گئے ڈرونز کا ملبہ ریفائنری کے احاطے میں گرا جس کے باعث محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم فائر فائٹنگ ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔
ریفائنری عارضی طور پر بند
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق راس تنورا پورٹ سے متصل ریفائنری کو حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزے کے بعد تنصیبات کے مکمل معائنے کا عمل جاری ہے اور صورتحال کو کنٹرول میں قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات
راس تنورا دنیا کے بڑے آئل ایکسپورٹ ٹرمینلز میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بندرگاہی سرگرمیاں طویل عرصے تک متاثر رہیں تو عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر اثر پڑ سکتا ہے۔
سکیورٹی مزید سخت
حملے کے بعد سعودی حکام نے مشرقی صوبے میں حساس توانائی تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ بندرگاہ اور ریفائنری کے اطراف فضائی نگرانی بڑھا دی گئی ہے جبکہ بحری گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم حکام واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے تیل کی فراہمی کے حوالے سے بھی آئندہ لائحہ عمل کا تعین سکیورٹی صورتحال کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔