لندن: برطانوی جریدے Financial Times نے اپنی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے برسوں پر محیط ایک خفیہ انٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
تہران کی نگرانی کا خفیہ جال
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے تہران کے ٹریفک کیمروں تک رسائی حاصل کر کے شہر کے حساس علاقوں کی طویل عرصے تک نگرانی کی۔ خاص طور پر پاستور اسٹریٹ — جہاں اہم حکومتی دفاتر اور اعلیٰ شخصیات کی رہائش گاہیں واقع ہیں — کو مسلسل مانیٹر کیا جاتا رہا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ حاصل کی گئی ویڈیو اور تصویری معلومات کو خفیہ کوڈز میں تبدیل کر کے بیرونِ ملک سرورز پر منتقل کیا جاتا تھا۔ اس ڈیٹا کی مدد سے نہ صرف اعلیٰ حکام بلکہ ان کے سکیورٹی اہلکاروں، ڈرائیوروں اور معمولاتِ زندگی کا مکمل نقشہ تیار کیا گیا۔
سوشل نیٹ ورک اینالیسس اور ‘پیٹرن آف لائف’
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے Mossad اور اسرائیل کے سگنلز یونٹ نے جدید ریاضیاتی ماڈلز اور سوشل نیٹ ورک اینالیسس کے ذریعے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ایرانی قیادت اور ان کے سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان روابط، ڈیوٹی روٹیشن، نقل و حرکت اور حفاظتی انتظامات کی مکمل پروفائلنگ کی گئی۔
اخبار کے مطابق ہزاروں انٹیلی جنس بریفنگز اور پیچیدہ الگورتھمز کی مدد سے یہ تک معلوم کر لیا گیا کہ کون سا محافظ کس اعلیٰ شخصیت کے ساتھ مستقل تعینات رہتا ہے۔
مواصلاتی نظام مفلوج کرنے کا دعوی
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ برس جون میں ایران کے دفاعی اور مواصلاتی نظام کو محدود وقت کے لیے غیر فعال کیا گیا۔ پاستور اسٹریٹ کے اطراف موبائل فون ٹاورز میں خلل ڈال کر مواصلاتی رابطے منقطع کیے گئے، جبکہ امریکی سائبر آپریشنز نے ایران کی نگرانی کی صلاحیت کو متاثر کیا۔
اس مشترکہ مبینہ کارروائی کو “ایپک فیوری” کا نام دیا گیا، جس میں امریکی خفیہ ادارے Central Intelligence Agency اور اسرائیلی حکام کے درمیان قریبی تعاون بتایا گیا ہے۔
حملے کی منصوبہ بندی اور کارروائی
رپورٹ کے مطابق امریکی قیادت کو انسانی ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ مخصوص دن اور وقت پر ایرانی سپریم لیڈر ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔ اسی بنیاد پر مبینہ طور پر کارروائی کا حکم دیا گیا۔ اسرائیلی طیاروں کی جانب سے متعدد بم گرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہدف اس مقام پر موجود نہیں تھے۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین کی جانب سے امریکی کارروائیوں کی تصدیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ اور مکمل تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
عالمی ردعمل اور سفارتی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے، تاہم ماضی میں تہران ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ جدید سائبر جنگ، ڈیٹا اینالیسس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال نے ریاستی سلامتی کے تصورات کو یکسر بدل دیا ہے، اور اس رپورٹ نے اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کو نمایاں کیا ہے۔