تہران: ایران نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حالیہ حملے سے واضح لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں اس کا کوئی کردار نہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران اس معاملے پر ریاض سے رابطے میں ہے اور کشیدگی کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔
نائب وزیر خارجہ کا مؤقف
ایران کے نائب وزیر خارجہ Majid Takht-Ravanchi نے امریکی نشریاتی ادارے CNN کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی اس طرح کی کسی کارروائی میں ملوث ہے۔
ان کا کہنا تھا:
“ہم نے سعودی حکام کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ ایران ان حملوں کا ذمہ دار نہیں۔ سعودی تنصیبات ہمارا ہدف نہیں ہیں، اور ہم اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانا کسی کے مفاد میں نہیں اور ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔
سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملہ
حملے کا ہدف بننے والی تنصیبات کا تعلق سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی Saudi Aramco سے بتایا جا رہا ہے، جو دنیا کی بڑی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایسے حملے عالمی تیل منڈی پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
تاحال حملے کی مکمل تفصیلات اور نقصان کا حتمی تخمینہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم واقعے نے خطے کی سلامتی کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایران کا اسرائیل پر الزام
دوسری جانب ایرانی عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر اسرائیل کا “فالس فلیگ” آپریشن ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنا اور مبینہ طور پر اسرائیلی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اسرائیل کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں اس بیان کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی اور علاقائی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس واقعے کی شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ خلیجی ممالک، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحمل اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں۔