ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں کے تناظر میں خبردار سخت ترین حملے ابھی باقی ہیں،مارک روبیو

واشنگٹن: مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ سخت ترین حملے ابھی باقی ہیں، تاہم واضح کیا کہ ایران میں رجیم چینج موجودہ امریکی فوجی آپریشن کا باضابطہ ہدف نہیں۔

امریکی وزیرخارجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے، خاص طور پر اس کے میزائل پروگرام، میزائل سازی کی تنصیبات اور بحری طاقت کو نشانہ بنانا ترجیح ہے۔ ان کے مطابق امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

روبیو نے کہا کہ امریکا کی مکمل توجہ اس وقت ایران کی اسٹریٹجک صلاحیت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیاں مخصوص اہداف تک محدود ہیں اور ان کا مقصد وسیع پیمانے پر جنگ کو ہوا دینا نہیں۔

رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایرانی حکومت کی تبدیلی امریکی فوجی آپریشن کا حصہ نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی عوام خود موجودہ نظام کے خلاف اقدام کرتے ہیں تو امریکا اسے خوش آئند سمجھے گا، لیکن یہ واشنگٹن کی موجودہ حکمت عملی میں شامل نہیں۔

مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف آئندہ دنوں میں مزید سخت حملے کیے جا سکتے ہیں، لیکن فی الحال ایران میں امریکی زمینی افواج داخل کرنے کی کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق زمینی مداخلت کے بجائے فضائی اور بحری ذرائع سے اہداف کو نشانہ بنانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے براہِ راست زمینی جنگ سے گریز کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو ایک مخصوص حد تک محدود رکھنا ہے۔

Related posts

عباس عراقچی نے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والی 160 طالبات کی قبروں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئرکردی

چین کا ایران میں جاری فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار

سعودی تیل تنصیبات پر حملہ: ایران کی سخت تردید، اسرائیل پر ’فالس فلیگ‘ کا الزام