بیجنگ: چین نے ایران میں جاری فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کردیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کشیدگی کا دائرہ کار خطے کے دیگر ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری بیان میں کہا کہ بیجنگ کا واضح مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ بیان کے مطابق چین خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا “تعمیری کردار” جاری رکھے گا، جس میں عالمی فورمز پر سفارتی کوششیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔
چین نے عندیہ دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انصاف کی بالادستی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم رہے گا۔ ترجمان نے کہا کہ طاقت کا اندھا دھند استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ موجودہ جنگ پڑوسی ممالک تک پھیل سکتی ہے، جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ بیجنگ نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ فوری طور پر ملٹری آپریشنز بند کیے جائیں اور تنازع کو مزید وسعت اختیار کرنے سے روکا جائے۔
چینی حکومت نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی مؤقف دہرایا کہ وہ پرامن جوہری توانائی کے استعمال کے ایران کے جائز حق کو تسلیم کرتی ہے۔ ترجمان کے مطابق ایرانی جوہری مسئلہ کا پائیدار حل عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی راستے سے ہی ممکن ہے، اور بالآخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا حالیہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بیجنگ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور وہ سفارتی ذرائع سے بحران کے خاتمے کی کوششوں کو ترجیح دے رہا ہے۔