تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والی 160 طالبات کی قبروں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ میں لکھا کہ یہ وہ “ریسکیو” ہے جس کا وعدہ امریکی قیادت نے ایرانی عوام سے کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم جانوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے اقدامات خطے میں مزید نفرت اور کشیدگی کو جنم دیتے ہیں۔
عباس عراقچی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “غزہ سے میناب تک، معصوم جانوں کو سفاکی سے قتل کیا گیا”، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شہری آبادیوں پر حملوں کے خلاف مؤثر اقدام کیا جائے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ واقعہ ایران کے جنوبی شہر میناب میں پیش آیا، جہاں ایک ایلیمنٹری اسکول کی طالبات حملے کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئیں۔ بعد ازاں 160 کمسن طالبات کو میناب کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں قطار در قطار قبریں دکھائی دے رہی ہیں، جنہیں ایرانی حکام نے حملے کا ثبوت قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائیاں کی تھیں، جنہیں امریکی صدر کی جانب سے “ایپک فیوری” (EPIC FURY) کا نام دیا گیا تھا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق انہی حملوں کے دوران میناب میں یہ سانحہ پیش آیا۔
تاحال امریکی حکام کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کی آزادانہ تصدیق اور تحقیقات سے متعلق مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے الزامات کی شفاف تحقیقات خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔