واشنگٹن: امریکی اخبار The New York Times نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے مبینہ آپریشن “غضب للحق” کے دوران افغانستان کے اہم ترین فوجی مرکز Bagram Air Base کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں بگرام ائیربیس پر قائم ایک ائیرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤسز تباہ ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں بیس کے مخصوص حصوں کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ایک ہفتے کے دوران افغانستان میں فوجی اہداف پر 50 سے زائد فضائی حملے کیے۔ اخبار کے مطابق یہ حملے مبینہ طور پر سرحد پار موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کیے گئے۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کے شواہد مختلف عالمی رپورٹس میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں United Nations کی متعدد رپورٹس کا حوالہ دیا گیا، جن میں افغانستان میں شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
پس منظر
بگرام ائیربیس افغانستان کا ایک اہم عسکری مرکز رہا ہے، جو ماضی میں امریکی اور نیٹو افواج کے زیر استعمال رہا۔ 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد اس بیس کی حیثیت خطے میں اسٹریٹجک اہمیت کے حوالے سے مسلسل موضوعِ بحث رہی ہے۔
تاحال پاکستان یا افغانستان کی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ پیش رفت خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ شواہد اور بین الاقوامی رپورٹس کی روشنی میں اس معاملے کی مزید تحقیقات اور سرکاری وضاحت ناگزیر ہیں، تاکہ زمینی حقائق سامنے آ سکیں۔