اسرائیلی وزیرِ دفاع کی سخت دھمکی: خامنہ ای کے جانشین کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ان کے کسی بھی ممکنہ جانشین کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا کہ انہوں نے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت میں تبدیلی سے اسرائیل کی پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

“نام یا مقام سے فرق نہیں پڑتا”

اسرائیل کاٹز نے اپنے بیان میں کہا کہ “اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جانشین کا نام کیا ہوگا یا وہ کہاں موجود ہوگا، ہم خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل ایرانی حکومت کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور اس ضمن میں امریکی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھا جائے گا۔

خطے میں کشیدگی میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بیانات اور مبینہ کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکیاں علاقائی تنازع کو مزید وسعت دے سکتی ہیں، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاحال ایران کی جانب سے اس بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں سفارتی اور عسکری سطح پر صورتحال مزید واضح ہو سکتی ہے۔

Related posts

سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر امریکی حملہ، ویڈیو منظرعام پر

امریکی رپورٹ: آپریشن “غضب للحق” میں بگرام ائیربیس کو نشانہ بنانے کا دعوی

عباس عراقچی نے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والی 160 طالبات کی قبروں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئرکردی