سری لنکا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز کے مبینہ حملے کی ویڈیو سامنے آگئی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں سمندر میں موجود ایک جنگی جہاز کو تارپیڈو لگنے کے بعد زور دار دھماکے سے تباہ ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی تصدیق
امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ بحری جہاز کو یہ گمان تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا، تاہم امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس سے قبل غیر ملکی خبر رساں اداروں نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ ایک امریکی آبدوز کے ذریعے کیا گیا۔
نشانہ بننے والا جہاز
میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا ایرانی بحری جہاز Islamic Republic of Iran Navy کا جنگی جہاز IRIS Dena تھا، جو بھارت میں مشترکہ جنگی مشقیں مکمل کرنے کے بعد ایران واپس جا رہا تھا۔ جہاز کو سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
سری لنکن حکام کا بیان
Sri Lanka کے وزیر خارجہ کے مطابق ایرانی جہاز کے ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی سری لنکن بحریہ کو ریسکیو آپریشن کے لیے روانہ کیا گیا۔ تاہم امدادی جہاز جب تک حادثے کے مقام پر پہنچا، ایرانی جنگی جہاز سمندر برد ہوچکا تھا۔
حکام کے مطابق اب تک 30 زخمی اہلکاروں کو سمندر سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں 80 ایرانی سیلرز ہلاک ہوئے۔
علاقائی اور عالمی ردعمل
اس واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی پانیوں میں کسی خودمختار ملک کے جنگی جہاز کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور سمندری ضوابط کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا سکتا ہے۔
تاحال ایران کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔