ایران کا بڑا دعویٰ: 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک، واشنگٹن نے خطرات تسلیم کر لیے

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی اعلیٰ قیادت نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ حملوں میں 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی حکام نے بند کمرہ بریفنگ میں ایرانی ڈرونز کو سنگین چیلنج قرار دیا ہے۔

ایرانی دعویٰ اور سخت بیانات

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ Ali Larijani نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں 500 سے زائد امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق امریکی صدر Donald Trump نے اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کی پالیسیوں کے باعث امریکی عوام کو ایران کے خلاف “ناجائز جنگ” میں جھونک دیا۔

علی لاریجانی نے سوال اٹھایا کہ “کیا اب بھی امریکا فرسٹ ہے یا اسرائیل؟” اور خبردار کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچانے کی صورت میں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا اشارہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی جانب تھا۔

ایرانی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی توثیق نہیں کی گئی۔

امریکی کانگریس کو خفیہ بریفنگ

دوسری جانب امریکی حکام نے کانگریس کو بند کمرہ بریفنگ میں بتایا کہ ایران کے “شاہد” ڈرونز امریکی فضائی دفاعی نظام کیلئے بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے CNN کے مطابق بریفنگ میں موجود دو ذرائع نے بتایا کہ وزیر دفاع Pete Hegseth اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل Dan Caine نے تسلیم کیا کہ ایرانی ڈرونز توقع سے زیادہ پیچیدہ خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔

ڈرونز کیوں چیلنج بنے؟

بریفنگ میں بتایا گیا کہ:
• ایرانی ڈرونز کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں
• ان کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے
• ریڈار پر انہیں پکڑنا مشکل ہو سکتا ہے
• بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں انٹرسیپٹ کرنا زیادہ پیچیدہ ہے

ذرائع کے مطابق ممکن ہے کہ تمام ڈرونز کو روکا نہ جا سکے، جو امریکی اور اتحادی افواج کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔

خلیجی اتحادیوں کی تیاری

تاہم بعض امریکی حکام نے خدشات کو کم کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی اتحادی ممالک بڑی تعداد میں انٹرسیپٹر میزائل ذخیرہ کر رہے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سمندری راستوں پر خطرات اور علاقائی عدم استحکام شامل ہیں۔

صورتحال کا مجموعی جائزہ
• ایران کا 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
• امریکا کی جانب سے سرکاری سطح پر تصدیق نہیں
• ایرانی ڈرونز امریکی دفاع کیلئے بڑا چیلنج قرار
• خلیجی ممالک دفاعی تیاریوں میں مصروف

موجودہ صورتحال میں دونوں جانب بیانات کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ کشیدگی کو محدود رکھنے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔

Related posts

دبئی مال میں اماراتی صدر کی اچانک آمد، خریدار حیران رہ گئے

سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر امریکی حملہ، ویڈیو منظرعام پر

اسرائیلی وزیرِ دفاع کی سخت دھمکی: خامنہ ای کے جانشین کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان