مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی جنگ مزید تیز ہو گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو آبنائے ہرمز سے "ایک بوند تیل بھی گزرنے نہیں دی جائے گی”۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے خطے میں بحری سرگرمیوں میں اضافے کے باوجود ابھی تک عملی طور پر کوئی ایسا اقدام سامنے نہیں آیا جو ایران کے عزم کو کمزور کر سکے۔
ایرانی پاسداران نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کی تھی۔ ایرانی حکام نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ٹرمپ اب تک آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے کوئی بحری بیڑا نہیں بھیج سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے پاس سمندری دفاع کے لیے میزائل اور ڈرون سمیت جدید ہتھیار موجود ہیں اور ابھی تک ان صلاحیتوں کا مکمل مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی پاسداران کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت سخت اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا ہے کہ امریکا خطے میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ جلد آبنائے ہرمز میں تعینات ہو کر بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل کے جہازوں کو تحفظ فراہم کرے گی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر خلیج میں ایک اور واقعے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ کویت کی ایک بندرگاہ کے قریب زور دار دھماکے کے بعد ایک کارگو ٹینکر سے سمندر میں تیل رسنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ٹینکر کو نقصان پہنچا جس کے باعث تیل کا اخراج شروع ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ خوش قسمتی سے جہاز کے عملے کو محفوظ نکال لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں حالیہ پیش رفت سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان