ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایران کے معاملے میں انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے اور جنگی محاذ پر صورتحال توقعات سے بھی بہتر ہے۔

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے میزائل نظام اور لانچنگ تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان کا مؤثر طریقے سے خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج جنگی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف پیشگی کارروائی نہ کی ہوتی تو ایران امریکا پر حملہ کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ممکنہ حملے سے پہلے ہی امریکا نے کارروائی کر کے خطرے کو کم کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو ایران بہت جلد ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ سکتا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق ایسے حالات میں خطے اور دنیا کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

امریکی صدر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں اپنے پڑوسی ممالک اور اتحادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “جب غیر ذمہ دار عناصر کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیار آ جائیں تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔”

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران میں گزشتہ 47 برسوں سے جاری تشدد اور عدم استحکام کو روکنے کے لیے کارروائی کی ہے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی ایران کے ساتھ ہونے والی جوہری ڈیل پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ایران کو مزید طاقت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی کے معاملے پر انہیں امریکی عوام کی حمایت حاصل ہے۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یورپی ملک اسپین امریکا کے ساتھ فوجی تعاون کے لیے رضامندی ظاہر کر چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں سلامتی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے جبکہ عالمی سطح پر اس کے سیاسی اور معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

Related posts

امریکی سینیٹ کی سماعت میں ایران کے خلاف کارروائی پر احتجاج، سابق میرین اہلکار کو زبردستی باہر نکال دیا گیا

سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنے کی بات بھول جائیں، شہزادہ ترکی الفیصل

آبنائے ہرمز پر کشیدگی میں اضافہ: ایران کا سخت مؤقف، امریکا کا تجارتی جہازوں کو تحفظ دینے کا اعلان