ریاض: سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آنے کی توقعات حقیقت سے دور ہیں۔
میڈیا سے گفتگو اور ایک بیان میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے جو باتیں کی جارہی ہیں، وہ موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور جاری تنازعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق پیش رفت نہیں ہوتی، اس وقت تک تعلقات کی بحالی جیسے معاملات پر پیش رفت مشکل ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جنگ ہے۔ ان کے بقول نیتن یاہو نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں کی حمایت پر قائل کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی طرف بڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں عدم استحکام نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
سعودی شہزادے نے واضح کیا کہ سعودی عرب ہمیشہ خطے میں استحکام، مذاکرات اور منصفانہ حل کی حمایت کرتا آیا ہے، تاہم موجودہ حالات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کی باتیں حقیقت سے قریب نہیں ہیں۔