مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 1230 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ ایران کی جانب سے مختلف ممالک میں کی گئی جوابی کارروائیوں میں بھی متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ایران، اسرائیل، لبنان اور خلیجی ممالک سمیت کئی علاقوں میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایران میں 1230 افراد شہید
عرب میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک 1230 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملوں میں مختلف فوجی اور حساس تنصیبات کے ساتھ شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
لبنان میں اسرائیلی حملے جاری
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں میں اب تک 77 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں شدید تباہی ہوئی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل پر ایرانی حملے، 11 افراد ہلاک
عرب میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 6 امریکی فوجی بھی شامل ہیں جو اسرائیل میں تعینات تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں اسرائیل کے مختلف علاقوں میں دھماکوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خلیجی ممالک بھی حملوں کی زد میں
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق:
• متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔
• بحرین میں میزائل مار گرانے کے دوران صنعتی علاقے میں آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔
• کویت میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں 2 کویتی فوجیوں سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے۔
عمان کی بندرگاہ پر ٹینکر پر حملہ
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عمان کی ایک بندرگاہ پر ٹینکر پر پروجیکٹائل حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد بندرگاہ کے علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
ماہرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پورا مشرق وسطیٰ شدید عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی سپلائی اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی جانب سے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔