امریکی نشریاتی ادارے CNN کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایران کے حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں نصب متعدد اہم دفاعی ریڈار سسٹمز کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور اوپن سورس ڈیٹا کے تجزیے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں فضائی دفاعی اور نگرانی کے نظام کو کمزور کرنے کے لیے مخصوص تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں ہی Jordan میں نصب جدید امریکی فضائی دفاعی نظام THAAD (Terminal High Altitude Area Defense) کے ایک ریڈار کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس تنصیب کو شدید نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق United Arab Emirates میں بھی دو مختلف مقامات پر موجود تھاڈ ریڈار سسٹمز کو ہدف بنایا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امارات میں موجود ریڈار تنصیبات عمارتوں کے اندر واقع ہونے کی وجہ سے ان کو پہنچنے والے مکمل نقصان کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم دستیاب سیٹلائٹ تصاویر سے ان مقامات پر ممکنہ حملوں کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔
اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ Qatar میں نصب ایک ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں اس تنصیب کی فعالیت متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
سی این این کے تحقیقاتی تجزیے کے مطابق ایران نے اپنے حملوں میں بنیادی طور پر کمیونیکیشن نیٹ ورکس، ریڈار تنصیبات اور جاسوسی یا نگرانی کے آلات کو ہدف بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کا مقصد دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنا اور اس کی نگرانی کی صلاحیت کو محدود کرنا ہوتا ہے تاکہ آئندہ کارروائیوں کے لیے فضائی راستہ نسبتاً آسان بنایا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر اوپن سورس معلومات کے ذریعے حاصل ہونے والے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی حساس دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی تھی۔ تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں باضابطہ تفصیلات محدود ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے خطے کے فضائی دفاعی نظام اور فوجی توازن پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ جدید ریڈار اور ارلی وارننگ سسٹمز کسی بھی ملک کے دفاعی ڈھانچے کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔