نیویارک — عالمی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تنازعات کے باعث جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ بات António Guterres نے ایک بیان میں کہی، جس میں انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مطابق دنیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی سلامتی کو مزید چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ ماضی کی کئی دہائیوں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مختلف خطوں میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور طاقت کے توازن میں تبدیلیاں عالمی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی بن رہی ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث فوجی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی نئی اقسام تنازعات کو پہلے سے کہیں زیادہ مہلک بنا رہی ہیں، جس سے جنگوں کے نتائج اور بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے عالمی توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان Stéphane Dujarric نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
ترجمان کے مطابق تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ خوراک، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو بھی متاثر کرتا ہے، جس کا اثر دنیا بھر میں عام شہریوں تک پہنچتا ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی کوششیں تیز کریں تاکہ دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچایا جا سکے اور عالمی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔