مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بھارتی میڈیا ایک مرتبہ پھر غلط معلومات اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ پر تنقید کی زد میں آگیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں متعدد بھارتی ٹی وی چینلز نے غیر مصدقہ اور پرانی ویڈیوز کو نئی خبروں کے طور پر نشر کرنا شروع کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض بھارتی چینلز نے دبئی میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ پر مبینہ حملے کی خبر نشر کردی، تاہم بعد میں یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا ثابت ہوا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جس ویڈیو کو دبئی کی قرار دیا گیا وہ دراصل بحرین کی پرانی ویڈیو تھی جسے گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا۔
اسی طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک اور ویڈیو بھی نشر کی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دبئی میں ایک فلیٹ کے اندر موجود خاتون پر حملہ کیا گیا ہے، لیکن بعد ازاں یہ خبر بھی بے بنیاد اور گمراہ کن نکلی۔
خلیجی اور عرب میڈیا نے بھارتی میڈیا کے اس طرزِ عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے منظم پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ خلیجی میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ چند بھارتی ٹی وی چینلز خطے کی صورتحال کو مسخ کرکے پیش کر رہے ہیں اور اسرائیلی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا جو پہلے بھارت کے اندر میڈیا بیانیے کا حصہ تھا، اب وہی رجحان خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں بھی نظر آنے لگا ہے۔
عرب میڈیا ہاؤسز اور صحافتی حلقوں نے اپنی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ گمراہ کن اطلاعات پھیلانے والے بھارتی چینلز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ خاص طور پر ری پبلک ٹی وی، زی نیوز، انڈیا ٹی وی، آج تک، اے بی پی اور ٹائمز ناؤ جیسے چینلز کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
میڈیا ماہرین کے مطابق حساس عالمی حالات میں غیر مصدقہ معلومات اور جعلی ویڈیوز نشر کرنا نہ صرف صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے خطے میں خوف و ہراس اور غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔