واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران روس بالواسطہ طور پر ایران کی مدد کر رہا ہے اور اسے امریکی فوجی اہداف سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روس نے ایران کو خطے میں موجود امریکی جنگی جہازوں، طیاروں اور دیگر فوجی اثاثوں کی پوزیشنز سے متعلق معلومات فراہم کیں، جس کے باعث ایران کے حالیہ حملے زیادہ درست اور مؤثر ثابت ہوئے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے روس مبینہ طور پر ایران کو امریکی فوجی سرگرمیوں اور تنصیبات کی لوکیشن سے آگاہ کر رہا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات، ریڈار سسٹمز اور کمانڈ سینٹرز کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے حملے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ اور درست معلومات کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
تاہم اس معاملے پر امریکی خفیہ ادارے اور دفاعی حکام فی الحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون نے روس کی مبینہ معاونت کے حوالے سے براہِ راست تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اسی طرح واشنگٹن میں موجود روسی سفارت خانے نے بھی ایران کو انٹیلی جنس تعاون فراہم کرنے کے سوال پر باضابطہ جواب دینے سے گریز کیا ہے، جس کے باعث اس معاملے پر مزید قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس بات کے کوئی واضح شواہد سامنے نہیں آئے کہ چین اس تنازع میں ایران کو براہِ راست دفاعی مدد فراہم کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق چین فی الحال اس صورتحال میں محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس کی جانب سے ایران کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔