تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کے میزائل یا فوجی حملے نہیں کیے جائیں گے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں پڑوسی ممالک سے معذرت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس پر ایران کو افسوس ہے اور ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔
ایرانی صدر کے مطابق عبوری لیڈرشپ کونسل نے بھی اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ ایران پڑوسی ممالک کے خلاف کسی قسم کے حملے یا میزائل کارروائیاں نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی پالیسی دفاعی نوعیت کی ہے اور خطے کے ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانا اس کے مفاد میں نہیں۔
مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران صرف اس صورت میں ردعمل دے گا جب کسی پڑوسی ملک کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کسی ملک کی زمین سے ایران پر حملہ نہیں کیا جاتا، ایران بھی ان ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر نے امریکا اور اسرائیل کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سرنڈر نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو ایرانی عوام کے ہتھیار ڈالنے کی خواہش کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنا پڑے گا کیونکہ ایرانی قوم اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد ایران نے خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں بعض مقامات پر شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔
مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا حالیہ بیان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پڑوسی ممالک کو اعتماد میں لینے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔