مشرق وسطی خطے کے کم از کم 10 ممالک کی فضائی حدود متاثر ہونے کے باعث بیشتر فلائٹ آپریشنز بدستور معطل

دبئی: ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم خطے کے کم از کم 10 ممالک کی فضائی حدود متاثر ہونے کے باعث بیشتر فلائٹ آپریشنز بدستور معطل ہیں۔ اس صورتحال میں جہاں کئی ممالک کے مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں، وہیں متحدہ عرب امارات نے پھنسے ہوئے لاکھوں مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کیلئے سیکڑوں خصوصی پروازیں چلانا شروع کر دی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حالات میں متحدہ عرب امارات سے چلنے والی پروازیں معمول کی کمرشل فلائٹس نہیں بلکہ خصوصی اور محدود پروازیں ہیں، جنہیں ایک خفیہ سفارتی حکمت عملی کے تحت ممکن بنایا گیا ہے۔

غیرملکی نشریاتی ادارے اے بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان پروازوں کے پیچھے ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کارفرما ہے، جس کے نتیجے میں مخصوص فضائی راستے عارضی طور پر کھولے گئے ہیں تاکہ عالمی سطح پر پھنسے مسافروں کو نکالا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اور فلائٹ آپریشنز بظاہر بند ہیں، تاہم خصوصی پروازوں کیلئے قطر اور یمن کے ذریعے ایک محفوظ فضائی راہداری قائم کی گئی ہے۔ اس راہداری کے ذریعے دبئی اور ابوظبی سے محدود پروازوں کو مخصوص راستوں پر اڑان بھرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس غیر معمولی انتظام کے تحت متحدہ عرب امارات نے ایران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی تیسرے فریق کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بدلے میں ایران نے دبئی اور ابوظبی سے روانہ ہونے والی تجارتی پروازوں کیلئے محفوظ فضائی راستہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے ان مخصوص فضائی راستوں پر سفر کرنے والے کمرشل طیاروں کو نشانہ نہ بنانے کی ضمانت بھی دی ہے، جس کے باعث محدود پیمانے پر فلائٹ آپریشن ممکن ہو سکا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ انتظام تقریباً 48 گھنٹوں کیلئے عارضی طور پر نافذ کیا گیا ہے، تاہم اگر خطے کی صورتحال میں مزید کشیدگی برقرار رہی تو اس معاہدے میں توسیع کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کے باعث دبئی اور ابوظبی میں موجود بہت سے مسافروں کو امید ملی ہے کہ وہ جلد اپنی منزلوں تک پہنچ سکیں گے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک کویت، بحرین اور قطر سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران فضائی آپریشن تقریباً مکمل طور پر بند رہا ہے۔

ان ممالک میں پھنسے ہوئے ہزاروں مسافر متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں اور بہت سے افراد مہنگے زمینی راستوں کے ذریعے سعودی عرب کا سفر کر کے وہاں سے اپنی منزلوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ شدید جغرافیائی کشیدگی کے باوجود انسانی بنیادوں پر سفارتی رابطے اور بیک چینل مذاکرات خطے میں فضائی سفر کو محدود پیمانے پر بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Related posts

ایران پر حملوں میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

ایران جنگ کے بعد یو اے ای کے صدر محمد بن زاید النہیان کا پہلا عوامی بیان سامنے آگیا

ایران پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کرے گا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اعلان