مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ امریکی فوجی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں میں تیزی آگئی

واشنگٹن: امریکی فوج کی ایک بڑی تربیتی مشق اچانک منسوخ کیے جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ امریکی فوجی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے اپنی ایلیٹ ایئربورن ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کی ایک اہم اور بڑے پیمانے کی تربیتی مشق اچانک منسوخ کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد فوجی اہلکاروں کو لوزیانا منتقل ہونے کے بجائے نارتھ کیرولائنا میں ہی موجود رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فوجی یونٹ انتہائی تیز رفتار تعیناتی کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس وقت تقریباً 4 سے 5 ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک مکمل بریگیڈ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بریگیڈ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صرف 18 گھنٹوں کے اندر تعینات کرنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جلد ہی اسی ڈویژن کے ایک ہیلی کاپٹر یونٹ کی مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے طے شدہ تعیناتی کا اعلان بھی کر سکتی ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہو سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بیانات اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد مشرقِ وسطیٰ میں زمینی فوج بھیجنے کے حق میں نہیں ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 12 فیصد امریکی شہری اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں جبکہ تقریباً 60 فیصد افراد اس کے مخالف ہیں۔

ماہرین کے مطابق عوامی رائے امریکی حکومت کے لیے ایک اہم عنصر ہے، کیونکہ طویل جنگی مہمات کے تجربات کے بعد امریکی معاشرے میں بیرونِ ملک فوجی مداخلت کے حوالے سے حساسیت بڑھ گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک امریکی حکومت کی جانب سے کسی بڑے زمینی فوجی آپریشن کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم فوجی تیاریوں اور مشقوں کی منسوخی نے خطے میں ممکنہ تعیناتی کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

Related posts

امریکی اڈے ایران کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں، حقِ دفاع میں کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں: علی لاریجانی

سعودی عرب کا ایران کو سخت انتباہ، حملے جاری رہے تو جوابی کارروائی کا عندیہ

چین نے ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے فوری طور پر جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کر دیا