ریاض: سعودی عرب نے پہلی مرتبہ ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ایران کو سفارتی ذرائع سے آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود تہران اور واشنگٹن کے درمیان تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کا حامی ہے۔ تاہم اگر سعودی سرزمین یا اس کے تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مملکت اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے بھرپور ردعمل دے گی۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک نے امریکا کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے اور حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو سعودی عرب ممکنہ طور پر امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں خلیجی ممالک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں امریکی مفادات اور اہداف کے خلاف ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بنیادی وجہ امریکی فوجی موجودگی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بند کیا جانا چاہیے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع کیے گئے حملوں کے بعد سے سعودی عرب پس پردہ سفارتی سرگرمیاں تیز کیے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاض تہران کے ساتھ اپنے سفیر کے ذریعے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی خطہ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاہم سعودی عرب اور ایران کی حکومتوں کی جانب سے برطانوی خبر رساں ایجنسی کی اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔